منموہن ویدنے اپوزیشن پرہی سیاست کاالزام لگایا،ملک کی شناخت ہندوتواہے لیکن کسی مذہب کے خلاف نہیں
جموں،21؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گؤرکشا سے منسلک دہشت گردی پر سیاست کئے جانے پر روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے آج کہا کہ وہ گؤرکشاکے نام پر کسی بھی طرح کے تشدد کی حمایت نہیں کرتاہے۔سنگھ نے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔سنگھ کے کل ہند پرچارک یونین کے صدر منموہن ویدکا تبصرہ ایسے وقت آیاہے جب اپوزیشن نام نہاد گؤ رکشکوں کی طرف سے قتل کرنے کے معاملے پر پارلیمنٹ میں حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ اسے(گؤ حفاظت کے نام پر تشدد)سنگھ سے جوڑنے کے بجائے، کارروائی کی جانی چاہئے اور جو مجرم پائے جائیں انہیں سزادی جانی چاہئے۔قانون کو اپنا کام کرنا چاہئے۔گؤ رکشاکے نام پر تشدد اور پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعات سے جڑے سوالوں کے جواب میں وید نے کہاکہ سنگھ کسی بھی طرح کے تشدد کی حمایت نہیں کرتاہے۔ہم نے پہلے بھی یہ کہا ہے اور اسے پہلے بھی واضح کیاہے۔انہوں نے کہاکہ گؤ رکشا ایک مختلف مسئلہ ہے۔گؤ رکشا کی مہم سینکڑوں سالوں سے چل رہی ہے۔سنگھ لیڈر نے الزام لگایا کہ میڈیا اسے ایک نظریہ سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپوزیشن مسئلے کا سیاست کرنے کی کوشش کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ غلط ہے۔سنگھ نے کبھی بھی تشدد کی حمایت نہیں کی۔اس پر سیاست کرنا اور معاشرے کا ایک حصہ نیچا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔آزادی کے بعد سے جموں وکشمیر میں پہلی بار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی کانفرنس ہوئی۔تین روزہ کانفرنس کا اختتام کل ہوا۔اس میں ریاست، ملک کے حالات سمیت کئی دیگر معاملات پر بات چیت ہوئی۔آل انڈیا پرچارک کانفرنس18سے 20جولائی کو امرناتھ مسافروں پر دہشت گردانہ حملے اور کشمیر میں بگڑتے سیکورٹی حالات اور بڑھتے دہشت گردی کے پس منظر میں ہوئی۔کانفرنس میں 195پرچارک،سنگھ سے وابسطہ تمام تنظیموں کے سربراہ اور سینئر لیڈر شامل ہوئے۔سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت، سینئر لیڈر بھییاجی جوشی، دتاتریہ ہوسبولے اور کرشن گوپال نے بھی اس میں شرکت کی۔وید سے ان میڈیا رپورٹس کے بارے میں سوال کیا گیا جن کے مطابق پیشرو کانگریس حکومت نے مبینہ طور پر سنگھ کودہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی، اس پر انہوں نے کہاکہ مسئلے پر سیاست کرنا اورسنگھ کو اس میں گھسیٹنا غلط تھا۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی طرف سے اسے سیاسی موڑ دینا غلط تھا، بعد میں ان کا پردہ فاش بھی ہو گیا۔وید نے کہاکہ اس ملک کی شناخت ہندوتوا ہے، جو کسی بھی دوسرے مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ہم سب کی فلاح و بہبود کے فلسفہ پریقین رکھتے ہیں۔این ڈی اے امیدوار رام ناتھ کوود کے ملک کے 14ویں صدر کے طور پر انتخاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تمام ممبران پارلیمنٹ نے انہیں صدر منتخب کیا ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔وہ بی جے پی کارکن اور گورنر رہے ہیں۔یہ پارٹی کا فیصلہ تھا۔وید نے کہا کہ کانفرنس میں بنگال میں حالات کے بارے میں بحث ہوئی جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور وہاں ہندو خوف میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حکومت خاموش بیٹھی ہے۔مارچ کی کانفرنس میں سنگھ نے قرارداد منظور کرکے اس کی مذمت کی تھی۔لیکن وہاں حالات نہیں سدھرے ہیں۔